مائیگرین کا علاج ( آدھے سر کا درد)

Urdu News
0


 


🔷 مائیگرین (آدھے سر کادرد) کا علاج 🔷


✍ ڈاکٹر محمد یاسر مختار


درد کسی بھی قسم کا ہو تکلیف دہ ہوتا ہے لیکن سر درد ایسا عارضه ہے جو اس بیماری میں مبتلا شخص کو دن میں بھی تارے دکھا دیتا ہے۔


جو لوگ نیند پوری نہیں کرتے یا حد سے زیادہ سوتے ہین وہ اکثر آدھے سر کے درد کا شکار ہو جاتے ہیں اس لیے ضروری ہے کہ نیند کو پوری کرنے کی کوشش کریں۔


مائیگرین کا اردو میں مطلب سر درد ہے۔ اسے آدھے سر کا درد یا درد شقیقہ بھی کہا جاتا ہے۔ سر میں درد کی کیفیت پیدا ہونے سے ہمارا دماغ اور جسم کا مواصلاتی نظام متاثر ہوتا ہے۔ جس سے پورا بدن اس کی لپیٹ میں آجاتا ہے۔


🔹 آدھے سر کے درد کی وجوہات

ماحولیاتی آلودگی

شور شرابہ

خوف و وہم

عجیب طرح کے وسوسے

حسد

نفرت

تکبر

معاشی مسائل

بخل

سماجی الجھنیں

ازدواجی نا خوشگوار ماحول

ذہنی خلفشار اور معاشرتی انتشار

عجیب خیالات کا آنا

وسواس

ڈپریشن

سٹریس

اینگزائٹی


یہ تمام عناصر معاشرے میں بہت زیادہ پائے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ روز بروز امراض افزوں تر ہوتے جا رہے ہیں۔


سر میں درد کی کیفیت دو قسم کی ہوتی ہے ایک وہ جس میں پورے سر میں درد کی ٹیس ابھر کر مبتلا کو بے چین کرتی ہے، دوسری قسم وہ جو آدھے سر میں درد کی شدت کا نمایاں ہونا ہے۔


درد شقیقہ کے زیادہ تر خواتین میں وقوع پذیر ہونے کے باعث خیال کیا جاتا ہے کہ جنسی ہارمونز کی بے اعتدالی، ماہواری میں خرابی، ہسٹریا اور دوسرے جنسی عوارض درد شقیقہ کے بڑے اسباب ہیں۔


ایک حالیہ تحقیق کے مطابق یہ مرض 15 فیصد کی شرح سے دنیا بھر کو متاثر کر رہا ہے۔ درد شقیقه کے بارے میں تحقیق و علاج پر عالمی سطح پر توجہ بہت کم دی جا رہی ہے۔ درد شقیقہ کے علاج پر توجہ نہ دینے سے متعلق عام تاثر یہی ہے کہ شوگر اور دمہ مہلک بیماریاں ہیں جبکہ درد شقیقہ تکلیف دہ ضرور ہے لیکن مہلک نہیں ہے۔


متواتر بے سکونی کی کیفیت، کثرت جماع، نسوار، سگریٹ نوشی، زیادہ چائے و کافی کا استعمال، دماغی خلیات میں مواصلاتی رابطے کی کمی واقع ہونا، دماغی جھلیوں میں بلغمی رطوبات کا اجتماع، ذہنی دباؤ، عصبی تناؤ اور اچانک صدمہ بھی درد شقیقہ کی وجہ بن سکتے ہیں۔ دماغ کی جانب کمزور دوران خون یا آکسیجن کی رسد کی کمی بھی اس عارضے کا ایک بہت بڑا سبب ہو سکتی ہے۔


مریض کو گہری نیند آجائے تو جاگنے کے بعد کسی دوا کے بغیر ہی وہ درد سے نجات پا چکا ہوتا ہے۔


درد شقیقہ کے حملہ آور ہونے کے اسباب میں جدید میڈیکل سائنس کوئی حتمی رائے قائم نہیں کر سکتی ہے۔ مختلف تحقیقات اور نظریات کے بل پر ہی اس کا علاج صرف دافع درد ادوایات سے ہی کیا جا سکتا ہے۔ نیچر و پیتھی میں اس کا مکمل اور شافی علاج ممکن اور موجود ہے۔


🔹 آدھے سر کے درد کا علاج

ایک چٹکی سونف، ایک چٹکی سفید زیرہ، ایک گرام ادرک، ایک گرام پودینہ اور ایک عدد سبز الائچی ڈیڑھ کپ پانی میں اچھی طرح پکا کر قہوہ بنا کر پینے سے سر کا درد کم ہو سکتا ہے۔


خشک میوه جات، خمیر جات، مربہ جات، کشمش، گاجر کا جوس اور وٹامن اے سے بھرپور غذاؤں کا بکثرت استعال کریں۔


موسمی سبزیاں کچی اور پکا کر بکثرت استعمال کریں۔


پھل اور پھلوں کے جوسز حسب گنجایش لازمی روزمرہ خوراک کا حصہ بنائیں۔


نیند ہمیشہ پوری لیں اور بلا وجہ بے سکونی سے بچنے کی کوشش کریں۔


تعمیری سوچ اور مثبت اپروچ بھی اس طرح کے عوارض سے ہمیں محفوظ رکھتی ہے۔


اگر ایک کپ کافی پی لیا جائے تو یہ سب سے سستا علاج ہے۔ کافی خون کی شریانوں کو دباتی ہے جس سے درد کی شدت میں کمی واقع ہوتی ہے۔


کافی کے استعمال سے کندھوں کے کنچھاؤ، گردن، کمر، سر اور چہرے کے پھٹوں کو سکون ملتا ہے۔


رمضان کے پہلے روزے کے دوران بھوکے رہنے کی عادت نہ ہونے کی وجہ سے بھی مائیگرین کا حملہ ہو سکتا ہے۔


ایک دن میں کم از کم 2 لیٹر پانی پئیں۔


گرم گرم شیرے میں ڈوبی ہوئی جلیبیاں کھائی جائیں تو یہ بھی اکثر فائدہ مند ثابت ہوتی ہیں۔


ناشتا اور کھانا کھائے بغیر اپنی روزمرہ سرگرمیوں کا آغاز نہ کریں اور صرف چائے یا کافی پر بھی ااکتفا نہ کریں۔


ایسی غذاؤں سے پرہیز کریں جن میں امائنوایسڈ موجود ہو اور یہ زیادہ تر گوشت، پنیر، مونگ پھلی اور چاکلیٹ میں پایا جاتا ہے۔


فیور فیو ایک پھول ہے جس میں ایسے عناصر پائے جاتے ہیں جو درد شقیقہ کے اثرات اور دورانیے کو کم کرنے میں مدد دیتے ہیں، اس کی پتیاں خشک کر کے پائوڈر بنا لیں یا قہوہ بنا کر پینے سے آرام ملتا ہے۔


روغن السی میں ضروری فیٹی ایسڈ کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ دن میں ایک دو چمچ اس قسم کے درد کے لیے مفید رہتے ہیں۔


آدھے سر کے درد کی ابتدا ہی میں اگر ایک سے دو گرام ادرک کا سفوف لے لیا جائے یا چھوٹا ٹکڑا چبا لیا جائے تو درد میں شدت نہیں آتی۔


جسم میں پانی کی کمی نہ ہونے دیں کیوں کہ آدھے سر میں درد کا ایک اہم سبب یہ بھی ہو سکتا ہے ۔ جنہیں یہ مسلہ ہو وہ اگر زیادہ دیر تک کھانا نہ کھائیں تو بھی انہیں سر درد ہو سکتا ہے۔







Post a Comment

0Comments
Post a Comment (0)
To Top